سوشل میڈیا پر گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دیئے جانے کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں بائیسویں ترمیم کا ایک مسودہ گردش کر رہا ہے اور اس پس منظرمیں گلگت بلتستان کے عوام کا جوش و خروش اورآزاد کشمیرکی سیاسی قیادت کی جانب سے مخالفت کا شور و غوغائے ہا و ہو بھی، لیکن اس موضوع پر آنے سے پہلے ایک مفروضہ یا امکانی صورت حال پیش خدمت ہے۔
میں سابق ریاست جموں و کشمیر کا ایک باشندہ ہوں اور آزاد کشمیر کا شہری ہونے کے باعث پاکستانی پاسپورٹ، شناختی کارڈ اور دیکر شناختی دستاویزات استعمال کرتا ہوں(میں کا صیغہ صرف بات سمجھانے کے لیے استعمال کر رہا ہوں ورنہ میری جگہ آپ بھی ہو سکتے ہیں چاہے آپ آزاد کشمیر کے باشندے ہیں، مقبوضہ کشمیر کے، گلگت بلتستان کے یا سمندر پار کشمیریوں میں سےہیں) فرض کیا میں امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس، آسٹریلیا یا کسی بھی ملک کے سفر پر ہوں یا وہاں مقیم ہوں۔ کسی وجہ سے بھارتی حکومت مجھے مطلوب قرار دے کر وہاں کی حکومت سے میری حوالگی کا مطالبہ کرتی ہے۔ میں پاکستانی سفارت خانے سے مدد طلب کرتا ہوں اور پاکستانی سفارت خانہ میری مدد کو آ جاتا ہے، مجھے اپنا شہری تسلیم کرتا ہے اور مجھے بھارت کے حوالے کیے جانے کی بھرپور مخالفت کرتا ہے۔ تنازعہ اس ملک کی عدالت میں پہنچ جاتا ہے۔ میں عدالت میں یہ موقف اختیار کرتا ہوں کہ میں آزاد کشمیر کا باشندہ ہوں جو پاکستان کے زیر انتظام ریاست ہے جس کا اپنا آئین، جھنڈا، ترانہ، صدر اور وزیراعظم ہے وغیرہ وغیرہ (جو آموختہ ہم آزاد کشمیر والے صبح شام پڑھتے اور سر دھنتے ہیں) میں آزاد کشمیر کے آئین کا ایک نسخہ، اپنا نادرا کا جاری کردہ شناختی کارڈ اور وزارت داخلہحکومت پاکستان کا جاری کردہ پاسپورٹ پیش کر دیتا ہوں۔ پاکستانی سفارت خانے کا افسر میری تائید کرتا ہے۔ اب بھارتی نمائیندہ روسٹرم پار آتا ہے اور دنیا کے ممالک کی فہرست عدالت کے سامنے پیش کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کرتا ہے کہ ملزم سے کہا جائے کہ وہ اپنی آزاد ریاست، جس کے “آئین، جھنڈے، ترانے، صدر، وزیراعظم” وغیرہ کی گردان اس نے سنائی ہے، کا نام ان ممالک کی فہرست میں سے نکال کر دکھائے۔ میں لاجواب ہو جاتا ہوں کیونکہ میں ایک ایسی تصوراتی ریاست کا باشندہ ہوں جو دنیا کے نقشے پر نہیں پائی جاتی۔ میں پینترا بدلتا ہوں اور پاکستانی پاسپورٹ لہرا کر پاکستانی شہری ہونے کا موقف اختیار کرتا ہوں اور پاکستانی سفرت خانے کا نمائیندہ میری پرزور تائید کرتا ہے۔ بھارت نمائندہ پھر کھڑا ہوتا ہے اور عدالت سے استدعا کرتا ہے کہ ذرا اس کے پاسپورٹ پر اس کا ایڈریس تو چیک کریں کہ یہ پاکستان کے کس حصے کا ناشندہ ہے۔ میں اپنا مستقل ایڈریس “ضلع باغ آزاد کشمیر” پڑھ کر سناتا ہوں تو بھارتی باشندہ آئین پاکستان کا نسخہ عدالت کے سامنے پیش کرتا ہے اور عدالت سے استدعا کرتا ہے کہ وہ پاکستان کے آئین سے وہ دفعہ نکال کر دکھائے جس کی رو سے میری جنم بھومی یا آبائی علاقہ پاکستانی ٹیریٹری کے طور پر درج ہے۔ میں جلدی جلدی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین 1973 کی دفعہ 1 پڑھ کر سناتا ہوں لیکن یہ کیا؟ آئین میں تو چاروں صوبے اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پاکستانی علاقوں کے طور پر درج ہیں نیز یہ بھی کہ ایسے علاقے یا ریاستیں جو بذریعہ الحاق یا بصورت دیگر پاکستان میں شامل ہوں لیکن جموں و کشمیر کلی یا جزوی طور پر پاکستانی علاقے کے طور پر درج نہیں ہے۔ میں اور پاکستان کا نمائیندہ دونوں گھگھیا کر رہ جاتے ہیں اور ہونقوں کی طرح ایک دوسرے کو دیکھنے لگتے ہیں۔ بھارتی نمائندہ بڑی عیاری سے عدالت کی توجہ اس جانب بھی مبذول کرواتا ہے کہ “یور لارڈ شپ! پاکستانی نمائندے سے دریافت کیجیے کہ اس نے ایسے شخص کو پاکستانی پاسپورٹ جاری کیوں کیا ہے جو آئینی اور قانونی طور پر اس کا باشندہ ہی نہیں ہے؟ پاکستانی نمائیندے مزید بکری بن کر رہ جاتا ہے۔
اب بھارتی نمائندہ خم ٹھونک کر کھڑا ہوتا ہے اور مجمعے کی طروف فاتحانہ اور ہم دونوں کی طرف تحقیر آمیز نگاہ ڈال کر عدالت سے مخاطب ہوتا ہے
“یور آنر! اب جبکہ یہ ثابت ہو گیا کہ “ملزم” کا پاکستان سے کسی قسم کا آئینی اور قانونی تعلق نہیں ہے، جبکہ اب میں ثابت کرتا ہوں کہ “ملزم” بھارتی شہری ہے لہذا اسے بھارت کے حوالے کیا جائے” اپنے موقف کی تائید میں وہ جمہوریہ ہند کا آئین پیش کرتا ہے جس میں پوری کی پوری ریاست جموں و کشمیر (بشمول آزاد علاقوں کے جو عملی طور پر پاکستان کے زیر انتظام ہیں) بھارت کے آئینی حصے کے طور پر درج ہے۔ اس طرح عدالت مجھے بھارتی شہری تسلیم کرتے ہوئے بھارت کے حوالے کر دیتی ہے۔ اگر آپ بھی جج ہوتے تو اس آئینی و قانونی صورت حال میں آپ اس سے مختلف کیا فیصلہ کر سکتے تھے؟
پاکستان اور آزاد کشمیر کی کشمیر پالیسی کی طرح جموں و کشمیر کے پاکستان سے تعلق کے حوالے سے پالیسیاں بھی ابہام اور تضادات کا شکار رہی ہیں جس بھارت نے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کی قیادت اور رائے عامہ 1948 کی پوزیشن پر ہی کھڑے ہیں جبکہ جیو پولیٹیکل صورت حال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے، زمانہ چال قیامت کی چل گیا ہے اور یہ سادہ لوح اصحاب کہف کی غار سے باہر آنے کو تیار نہیں۔ بھارت بڑی عیاری اور مکاری کے ساتھ اپنی پوزیشن ضرورت کے مطابق ایڈجسٹ کرتا رہا۔ 1949 میں وہ خود کشمیر کا مسئلہ اووام متحدہ میں لے گیا تھا جس کے نتیجے میں جنگ بند ہوئی اور رائے شماری کی قرارداد منظور ہوئی۔ بھارت نے اس کی آڑ میں اپنی پوزیشن مستحکم کی اور موقع ملتے ہی 1953 میں ریاستی اسمبلی سے الحاق ہند کی قرارداد منظور کروا کر ریاست کو اپنے آئینی دائرے میں لے لیا۔ پھر پاکستان کی جانب سے امریکی اتحادوں سیٹو اور سینٹو میں شمولیت کا بہانہ بنا کر رائے شماری سے راہ فرار اختیار کر لی۔ 1972 میں وزیراعظم بھٹو کے ساتھ طے پانے والے شملہ معاہدے کے تحت مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح سے ہٹا کر دوطرفہ پاک بھارت مسئلہ کی سطح پر لانے میں کامیاب ہو گیا اور پھر 5 اگست 2019 کو بھارتی آئین میں مزید ترمیم کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت بھی ختم کر دی اور اسے ریاست کے درجے سے گھٹا کر دو یونین ٹیریٹریز بنا دیا، اللہ اللہ خری صلا۔ نہ بانس رہے نہ بنسری بجے۔ نہ ریاست جموں و کشمیر کا وجود رہے، نہ مسئلہ۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو شہد لگا کر پاکستانی اور کشمیری چوستے رہ جائیں۔
‎5 اگست کے بھارتی اقدامات کے جواب میں ضرورت اس بات کی تھی کہ کم از کم دو اقدامات کیے جاتے۔
الف- شملہ معاہدے کو بھارت کے منہ پر دے مارا جاتا اور اس کی بیڑیوں سے جان چھڑائی جاتی
ب- آئین پاکستان کی دفعہ 1 میں ترمیم کرتے ہوئے پوری ریاست جموں و کشمیر کو پاکستانی ٹیریٹری کے طور پر درج کیا جاتا تاکہ ریاست کی جو وحدت بھارت آئئینی جارحیت کی وجہ سے تار تار ہوئی تھی، اسے پاکستانی آئین کے ذریعے بحال کیا جاتا نیز اقوام متحدہ کی قراردادوں سے مشروط کرتے ہوئے دونوں آزاد علاقوں (آزادکشمیر اور گلگت بلتستان) کو عبوری صوبوں کا سٹیٹس دیا جاتا۔ اس طرح ریاست جموں و کشمیر کے تمام باشندے پاکستانی شہری قرار پاتے اور ریاست کے پاکستان کے ساتھ تعلق کو آئینی تحفظ مل سکتا۔
اس طرح کے جامع پیکیج کے تحت کوئی انتظام کرنے کی بجائے peace meal اقدامات مسئلہ کشمیر کو اور زیادہ پیچیدہ بنا دیں گے اور کشمیری عوام کی بے اعتمادی اور عدم تحفظ میں اضافہ کریں گے۔
بالا صورت حال میں بلوچستان کی باپ پارٹی کے سینیٹروں کی جانب سے گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنائے جانے کے حوالے سے پیش کردہ بل زمینی حقائق، مسئلہ کشمیر اور اس کی تاریخی، سفارتی اور جیو سٹریٹیجک جہتوں نیز پاکستانی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس کی بجائے وسیع تر مشاورت اور قومی اتفاق رائے سے آئین پاکستان میں ایسی ترامیم کی جائیں کہ پوری ریاست پاکستان کے آئینی دائرے میں آ جائے اور ایسا کرنا غلط بھی نہیں ہو گا کیونکہ اقوام متحدہ نے پاکستان کو مسئلے کا برابر کا فریق تسلیم کر رکھا ہے۔ اگر دوسرا فریق بھارت یکطرفہ اقدامات کے ذریعے زمینی حقائق تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو پاکستان کو بھی جوابی اقدامات کے ذریعے بھارت اقدامات کا سدباب کرنا چاہیے۔ اس کے بعد دونوں آزاد خطوں کو یکساں انتظام کے تحت آئین پاکستان میں ترمیم کے ذریعے عبوری صوبے ڈیکلیئر کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے آزاد اور مقبوضہ کشمیر کی قیادتوں کے تحفظات بھی دور کرنے چاہییں اور تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر جامع پیکیج کے تحت اس مسئلے کو یکسو کرنا چاہیے کیونکہ اتفاق رائے کے بغیر اچھی سے اچھی قانون سازی بھی مضر نتائج پیدا کر سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *