پاکستان میں تجارتی توازن کسی بھی طرح درست ہونے میں نہیں آرہا۔ تجارتی خسارا تسلسل کے ساتھ کرنسی کی قیمت کوکم کیے جا رہا ہے۔ کرنسی کی قیمت میں کمی سے درآمدات مہنگی ہو رہی ہیں اور یہ بوجھ حکومت عوام تک منتقل کیے جا رہی ہے، نتیجتا مہنگائی میں اضافہ ناگزیر ہے۔ اس مہنگائی سے نمٹنے کے لیئے پالیسی ریٹ میں اضافہ کیا جا چکا اور مزید اضافہ متوقع ہے۔ یہ اضافہ سودی ادائیگیوں اوربجٹ خسارے کو تسلسل کے ساتھ بڑھاتا جارہا ہے جس سے عوام فلاح کے تمام منصوبے متاثر ہوتےے ہین، اور عوامی ٹیکسز کا ضیاع ہوتا ہے۔ اس طرح عوام ایک مہنگائی کی کی منحوس چکر میں پستی جا رہی ہے۔

سرکار کو اس منحوس مہنگائی کے چکر سے نکلنے کا کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا، ایسے میں کچھ دانشور وقفے وقفے سے یہ نصیحتیں کیے جا رہے ہیں کہ روپے کی قیمت کو مارکیٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ کر تجارت کے مسئلہ کو حل کیا جائے۔ کرنسی کی قیمت کو مارکیٹ کے رحم و کرم پر چھوڑنے سے نہ کبھی ماضی میں تجارت کا مسئلہ حل ہوا ہے نہ ہی مستقبل میں ایسا ممکن ہے۔ کرنسی کی قدر میں کمی سے تجارتی توازن میں درستگی اس وقت ممکن ہے جب تجارت کا بڑا حصہ سامان آسائش یعنی لگژریز پرمشتمل ہو،جبکہ پاکستان کی درامدات میں سب سے بڑا حصہ پٹرولیم مصنوعات کا ہے، جن میں میں کمی کی گنجائش متبادل کے بغیر ممکن نہیں۔متبادل کی غیر موجودگی میں جیسا کہ خان صاحب کے مشیران کہتے ہیں، پٹرول 300 روپے لٹر بھی ہو جائے تب بھی معیشت کا پہیہ چلانے کے لئے پٹرول کی درآمدات لازمی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں کرنسی کی قدر میں میں نمایاں کمی کے باوجود اور تجارتی توازن درست ہونے میں نہیں آرہا۔ کچھ عرصہ قبل تجارتی توازن میں عارضی بہتری پٹرول کی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت کے سبب تھی، اور بین الاقوامی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت میں اضافے کے ساتھ ہی یہ بہتری انجام کو پہنچ چکی۔
ایسے میں مسئلے کا حل کرنسی کی قدر میں کمی سے نکالنا ممکن نہیں بلکہ اس کے لئے در مدات پر انحصار کم سے کم کرنا ہوگا تاکہ مستقبل میں بھی پٹرول کی قیمت میں ہونے والے تغیر کے اثرات سے مقامی معیشت کو محفوظ رکھا جا سکے۔ اس کی واحد صورت یہ ہے کہ پٹرول کا مقامی متبادل تلاش کیا جائے اور خوش قسمتی سے یہ کام زیادہ مشکل نہیں۔ جس ملک میں ہزاروں میگاواٹ سستی بجلی کے وسائل موجود ہوں وہاں پٹرول کا بہترین متبادل بجلی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مقامی ٹرانسپورٹ کو الیکٹرک میں تبدیل کرکے کے پٹرول کی درآمدات پر انحصار کو رفتہ رفتہ کم کیا جائے۔
سرکار کے بعض وزراء ماضی قریب میں اس امر کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ سابقہ حکومت نے بجلی کے جومعاہدات کیے وہ پاکستان میں درکار بجلی کی ضرورت سے زیادہ ہیں اور پاکستان میں بجلی کا ٹرانسمشن سسٹم اس قابل نہیں ہے کہ وہ اتنی بجلی ملک کے کونے کونے تک پہنچا سکیں۔ یہی وہ موقع ہے کے اس بجلی کو ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال کر کے درآمدات کے مسئلے پر قابو پایا جاسکے۔ سرکار کو چاہیے کہ فاضل بجلی ٹرانسپورٹ سسٹم کو فراہم کی جائے اور مقامی ٹرانسپورٹرز کو الیکٹرک ترک بیٹریز کی خریداری پر سہولت دی جائے۔ الیکٹرک بیٹری کی درآمد سے سے یکبارگی درآمدات پر پریشر بڑھے گا لیکن اس کے بعد پٹرول کی درآمدات میں کمی میں اس پریشر کا نتیجہ ہو گی۔ اس لیے سرکار کو فوری طور پر چاہیے کے طویل روٹ کی ٹرانسپورٹ کو الیکٹرک میں تبدیل کرنے کے لئے بیٹری اور دیگر متعلقہ سامان درامد کر نے کی اجازت دی جائے اور اس پر ٹیکس سہولت دی جائے۔ جبکہ طویل مدتی حکمت عملی میں یہ عنصر شامل کیا جائے کے الیکٹرک بیٹری بنانے والی کمپنیاں یا اپنے پروڈکشن یونٹ پاکستان میں قائم کریں، تاکہ بیٹریوں کا درآمدی بل کم کیا جا سکے ۔
اس کے ساتھ ساتھ مزید ضرورت اس امر کی ہے کہ پرائیویٹ شعبے کو ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ لگانے کی اجازت دی جائے۔ پرائیویٹ شعبے کو ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ کی کی اجازت دینے سے سرکار پر سرمایہ کاری کا بوجھ نہیں پڑے گا، اور سرکار کی سرمایہ کاری کے بغیر بجلی کی پیداوار ممکن بنائی جا سکے گی۔ پرائیویٹ شعبہ اس پیداوار کو ٹرانسپورٹ کے لئے استعمال کر کے پٹرولیم پر انحصار کو کم کرنے میں مددگار ہوگا۔ ایک میگا واٹ بجلی کا ٹرانسپورٹ کے لئے استعمال ہے لاکھوں ڈالر کا زرمبادلہ بچانے کا سبب بنے گا۔ سرکار کو یہ چاہیے کہ دو سال کے لیے ٹیکس کی چھوٹ دے کر پرائیویٹ شعبے کو موزوں مقامات پر قابل تجدید توانائی کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کی اجازت دی جائے اور اس مقصد کے لیے تمام ممکنہ سہولیات فر اہم کی جائیں۔
اس کے ساتھ ساتھ مشینری کی مد میں جو درآمدات کی جا رہی ہیں، سرکار کو یہ پالیسی اپنانی چاہیے کہ متعلقہ کمپنیز کو یہ ترغیب دی جائے جائے کہ وہ اپنے پیداواری یونٹ پاکستان میں قائم کریں اور اگر کمپنیاں ایسا کرنے سےاحتراز کریں تو ان کی درآمدات پر ٹیکس ریٹ میں نمایاں اضافہ کیا جائے۔ مثلا اگر موبائل فون پاکستان میں بڑی تعداد میں درآمد کیا جاتا ہے تو سرکار یہ اعلان کر دے کے جو موبائل کمپنیاں پاکستان میں اپنا پیداواری یونٹ قائم نہیں کریں گی ان کی درآمدات پر ہر تین ماہ بعد ٹیکس میں 25 فیصد اضافہ کیا جائے گا،جبکہ مقامی طور پر موبائل فون کے پیداواری یونٹ لگانے والی کمپنیوں کو تمام ممکنہ سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ یہ پالیسی اپنے نفاذ کے کچھ عرصہ بعد درامدات میں نمایاں کمی کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی طرح الیکٹرونکس کی تمام مصنوعات کے بارے میں یہی پالیسی اپنائی جا سکتی ہے کہ جس کمپنی کو پاکستانی مارکیٹ تک رسائی درکار ہے وہ اپنا پیداواری یونٹ پاکستان میں لگائے وگرنہ امپورٹ ٹیکسز میں نمایاں اضافے کے لیے تیار رہے۔

یہ وہ امکانات ہیں جو تجارتی توازن میں بہتری کا سبب بن سکتے ہیں۔ باقی رہا کرنسی کی قدر کا معاملہ تو یقین کیجئے، اس سے تجارتی توازن میں درستگی کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔ 2005 سے 2020 تک ڈالر کے مقابلے میں میں چینی کرنسی کی قدر میں 22 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ پاکستانی کرنسی کی قدر ڈالر کے مقابلے میں 180 فیصد کم ہوئی۔ اگر کرنسی کی قدر میں میں کمی والا نسخہ کارگر ہوتا تو چین کی برآمدات میں کمی ہونی چاہیے تھی کیونکہ اس کی کرنسی مہنگی ہونے سے دنیا کے لئے چینی مصنوعات مہنگی ہو جانی چاہیئں لیکن اس کے برعکس مذکورہ عرصے میں چین کی برآمدات میں 400 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ پاکستانی روپے کی قیمت اتنی کم ہونے کے باوجود اور پاکستان کی برآمدات مذکورہ عرصے میں 60 فیصد بھی نہیں بڑھیں۔ دنیا کو مسئلہ پاکستانی مصنوعات کی قیمت کے ساتھ نہیں بلکہ ان کے معیار کے ساتھ ہے، اور معیار کے مسئلے کا حل کرنسی کی قیمت میں کمی کے زریعے تلاش کرنا ایسا ہی ہے جیسے کینسر کے علاج کے لیے پین کلر استعمال کرنا، یا جیسے سر درد کا علاج معدے کی دوائی سے کیا جائے۔

تحریر: عتیق الرحمن

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *