تحریر ڈاکٹر محمد اقبال خلیل

            جب ۷۱مئی۶۵۹۱ء کو میں پیدا ہوا  تو میری ماں مجھے بتاتی تھی کہ میں بہت خوبصورت بچہ تھا۔گورا چٹا۔سبز آنکھیں۔لوگ دیکھنے کے لئے آتے تھے۔پھر میں ایک سال کا ہو نے والا تھا اور چلنے پھرنے کے قابل ہوا تو چند دن بیمار رہا اور پھر چلنا چھوڑ دیا۔والد صاحب بہت پریشان ہو ئے کیونکہ وہ مجھ سے بہت پیار کرتے تھے۔ اور مجھے شہزادہ کہتے تھے۔ڈاکٹر کو دیکھایا تو اس نے بتایا کہ شائد پولیو کا اثر ہو۔پھر ڈاکٹروں،ہسپتالوں،حکیموں اور مزارات کے چکر لگنے شروع ہو ئے۔میرے بچپن کے اولین یادیں مزاروں کے دورے ہیں۔میری والدہ اور پھو پھی مجھے گود میں لے کر دور دور تک پھرتے تھیں۔مزارات کے پتھر میرے دائیں پیر سے ملتی تھیں اور نمک میرے منہ میں ڈالتی تھیں۔اور روشنائی سے کاغذ پر تعویز لکھے ہو ئے ہو تے تھے جو دودھ میں گھول کر زبردستی مجھے پلائے جاتے تھے۔میری بچپن کی یادوں میں پہلا حادثہ اس وقت پیش آیا جب میرے خالہ زاد بھائی محمد آمین  نے مجھے سائیکل پر اپنے سامنے بٹھالیا۔وہ مجھ سے بہت محبت کرتے تھے اور کھلایا کرتے تھے۔چونکہ میری دائیں ٹانگ کمزور تھی اور میں اس کو کنٹرول نہیں کر پاتا تھا اس لئے وہ سائیکل کے اگلے پہیہ میں پھنس گئی اور میں بہت رویا۔ان دنوں ہم مردان میں رہتے تھے اور ہمارے گھر کے سامنے ایک چھوٹا سا نالہ تھا جس سے دیگر بچے آسانی سے پھلانگ جاتے تھے لیکن جب میں نے جمپ کرنے کی کوشش کی تو میں نالے میں گر گیا اور سب بچے مجھ پر ہنسنے لگے۔میرا صل امتحان اس وقت شروع ہو ا جب میں پہلی پرتبہ سکول میں داخل ہوا۔ہم والد صاحب کی ملازمت کی وجہ سے سنہء ۰۶ء میں کراچی چلے گئے تھے۔اور وہاں PESHS سوسائٹی میں رہائیش پزیر تھے۔اور ایک قریبی سرکاری اسکول میں داخل ہوا۔اسکول کے بڑے لڑکے میرا مذاق اڑاتے اور تنگ کرتے تھے۔میرا بستہ لے کر بھاگ جاتے۔میں گھر آکر امی کو بتاتا تو وہ بھی پریشان ہو جاتیں۔

کراچی کے جناح ہسپتال میں میری ٹانگ کا باقاعدہ علاج شروع ہوا۔مجھے ٹرائی سائیکل چلانے کی مشق کرائی جاتی سیڑھیوں پر چڑھایا جاتا اور بجلی کے ہلکے شاٹ لگائے جاتے جس کی مجھے سمجھ نہیں آئی کیونکہ پولیو مرض میں وائرس  انسان کے حرام مغز میں موجود مخصوص خلیات پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔جس سے اس کے اعصابی مراکز مردہ ہو جاتے ہیں۔جس سے متاثرہ عضو کے عضلات مستقل طور پر کمزور ہو جاتے ہیں اور ان کا دوبارہ فعال ہو نا  ممکن نہیں ہو تا۔ہم ایک سال کراچی میں گزار کرلاہور منتقل ہو گئے اور یہاں ایک دو چھوٹے اسکولوں میں داخلے کے بعد فیروزپور روڈ پر  ایک بڑے تعلیمی ادارے میں داخل ہوا جو اس زمانے میں طالبات کا سب سے بڑا ادارہ تھا اور ایم اے تک تعلیم ہو تی تھی پرائمری کلاسوں تک لڑکوں کو بھی داخل کیا جاتا تھا۔یہاں میں نے تیسری جماعت تک پڑھا۔ان دنوں میرے والد صاحب کے ایک دوست نسیم حجازی صاحب تھے جو ملک کے نامور ناول نگار ہیں۔اس لئے بچپن ہی سے ان کے ناول پڑھنا شروع کئے  جس سے میری اردو بہت اچھی ہو گئی اور کلاس میں لمبا قداور اچھی اردو کی وجہ سے استاد  مجھ سے کتاب پڑھاتے تھے جو دیگر طلباء کو عجیب لگتا کہ ایک پٹھان ہمیں اردو سکھارہا ہے۔ وہ مجھے لنگڑا کہ کر پکارتے اور مار کر بھاگ جاتے۔ میں ان کا پیچھا کرتا لیکن تیز نہیں بھاگ سکتا تھا اس لئے بدلہ لینے  کے لئے میں کلاس میں دروازے کے پیچھے چھپ جاتا اور بریک ختم ہونے کے بعد جب واپس آتے تو پکڑ کر مار لگاتا۔

میرے والد صاحب مجھ سے خصوصی برتاؤ رکھتے تھے دوسرے بہن بھائیوں کے مقابلے میں زیادہ محبت کا اظہار کرتے۔وہ ہر رات اپنے شہزادے کو لٹاکر ٹانگ پر زیتوں تیل سے مالش کرتے اور پٹی کردیتے تھے۔صبح اسکول جانے سے پہلے امی پٹی نکال دیتی تھی۔ لاہور میں جہاں ہم رہتے تھے اس کے گرد بہت درخت اور باغات تھے خاص طور پر جامن کے بڑے درخت تھے۔ جب اس پر جامن لگتے تو میرے بھائی بہن درخت پر چڑھ جاتے اور میں نیچے کھڑا رہ جاتا کیونکہ میں اوپر نہیں چڑھ سکتا تھا۔اس لئے وہ پکے ہو ئے جامن توڑ کر مجھے پھینکتے تھے جو میں کیچ کرتا۔

پھر ہم لاہور سے واپس پشاور آگئے اور میں بہنوں کے ساتھ الزبتھ گرلز اسکول میں داخل ہو گیا۔جہاں چوتھی جماعت تک بچوں کو بھی اجازت تھی۔اب میں قدرے بڑا ہو گیاتھا۔بریک کے دوران لڑکے کھیلتے بھی تھے اور آپس میں لڑتے بھی رہتے تھے۔ہم چوتھی کلاس کے چار لڑکے آپس میں دوست تھے لیکن

تیسری کلاس میں زیادہ لڑکے تھے اور شریر تھے ان سے ہماری لڑائی رہتی۔میرا چھوٹا بھائی اویس بھی اسی کلاس میں تھا۔جس کوایک لڑکا مارتا رہتا تھا۔میں نے اس کو منع کیا تو وہ مجھے بھی مارکر بھاگ گیا۔مس سے شکایت کی تو اس نے کہا خودہی بدلہ لے لو۔پھر میں اس کی تاک میں لگ گیا اور ایک دن پکڑ کر اس کی خوب ٹھکائی۔پھر میں اگلے سال میں ڈبگری میں لڑکوں کے اسکول ایڈورڈ مشنری اسکول میں میں داخل ہوا۔ یہاں باسکٹ بال کا کورٹ تھا اور کھیل کا میدان بھی۔مجھے باسکٹ بال کھیلنے کا بڑا شوق تھا۔ لیکن ٹانگ کی کمزوری کی وجہ سے کھیل نہ پایا۔اسطرح میرے قد کی وجہ سے مجھے پی ٹی ٹیم میں شامل کیا گیا لیکن میں اپنے ٹانگ نہ اٹھا سکتا تھا اس لئے باہر کر دیا گیا۔

میں پانچویں کلاس ہی میں تھا کہ والد صاحب مجھے مشہور سرجن ڈاکٹر فیروز شاہ کے پاس لے گئے اور انھوں نے ٹانگ کو سیدھا کرنے کے لئے مجھے لیڈی ریڈینگ ہسپتال کے بولٹن بلاک میں داخل کر دیا گیا۔ ان دنوں بے ہوشی کے لئے جو دوا(Ether) دی جاتی تھی اور جس طرح دی جاتی تھی وہ میرے لئے بہت خوفناک تھی۔ایسا محسوس ہو تا تھا کہ آپ آہستہ آہستہ ایک گہرے کنویں میں دھنستے جا رہے ہیں۔آپریشن کے بعد بھی بیہوشی کے اثر سے نکلنے کے لئے بہت وقت لگتا تھا۔اور مریض کو بہت تکلیف ہو تی تھی۔دوسرا مسئلہ ٹانکو ں کا ہو تا تھا۔ اس کیلئے لوہے کی تاریں استعمال ہو تی تھیں  جس کو نکالنے کے لئے ایک بار پھر مجھے بیہوش کیا گیا جو ایک تکلیف دہ مرحلہ تھا۔ میری دائیں ٹانگ پر اب بھی ٹانکوں کے نشان موجود ہیں۔البتہ اس آپریشن کا یک خوشگوار یاد بھی آج تک مجھے یاد ہے۔وہ ڈاکٹرفیروز شاہ کی خوش مزاجی اور بزلہ سنجی ہے۔میں ساری رات جاگ کر صبح کا انتظار کرتا کہ ڈاکٹر صاحب کب آئیں گے وہ مسکراتے ہو ئے آتے اور میرے ساتھ ہنسی مزاق کر کے اور امی کو تسلی دے کر چلے جاتے۔ آپریشن کے بعد جب میں واپس اسکول جانے لگا تو پلستر لگا ہو ا تھا اور میں بیساکھی استعمال کرتا تھا۔جس پر لڑکے مذاق کرتے تھے پھر میں نے بیساکھیاں چھوڑ کر ایک پاؤ ں پر پھدکنا شروع کیا۔

میری دائیں ٹانگ پولیو کی وجہ سے کمزور تھی اس لئے قدرتی طور پر جسم کا زیادہ وزن بائیں ٹانگ اٹھاتی تھی۔جس کی وجہ سے وہ زیادہ طاقت ور تھی۔یہ اللہ تعالیٰ کا نظام ہے وہ جب انسان کو کسی نعمت سے محروم کرتا ہے تو اس کی جگہ دوسرے عضو کو زیادہ قوت عطا کر دیتا ہے۔چنانچہ میری بائیں ٹانگ زیادہ طاقت اور بنتی چلی گئی اور میرے جسم کا بوجھ اٹھاتی رہی۔

میں ساتویں جماعت میں کینٹ پبلک اسکول میں داخل ہوا۔ وہاں کھیل کے بڑے میدان تھے اور پڑھائی کے ساتھ میری کھیل کود میں خاصی دلچسپی تھی۔اسکول میں بریک کے دوران خاص طور پر لڑکے کبڈی کبڈی کھیلتے تھے۔ میں بھی ان میں شامل ہو تا۔مجھے مخالف ٹیم کے کھلاڑی پکڑنے میں خاص مہارت تھی،اور جو بندہ قابو آجائے اس کا چھوٹنا مشکل ہو تاتھا البتہ جب میں ان کے میدان میں جاتا تو مجھے ہاتھ لگاکر بھاگنے میں مشکل پیش آتی اور پکڑا جاتا اس وجہ سے لڑکے مجھے اپنے ٹیم میں شامل کرنے سے کتراتے تھے۔ان دو سالوں میں میرا سب سے پیارا دوست بلال تھا جو مجھے چانٹامارکر بھاگ جاتا اور میں اس کا پیچھا کرتا رہتا اس طرح ھم آپس میں کھیلتے تھے۔ وہ ہمارے کلاس کا بہترین طالب علم  جس نے بعد میں انٹر بورڈٹاپ کیا اور وظیفے پر امریکہ چلا گیا اور ناسا کے خلائی ادارے میں جاب ملی۔ سکول سے گھر آکر میں کھیلتا تھا کرکٹ،فٹ بال،ہاکی،بیڈمنٹن وغیرہ۔کرکٹ کھیلتے ہو ئے میں جلدی آؤٹ ہو جاتا تھا۔اس طرح ہا کی،فٹ بال میں مجھے گول کیپر بنادیا جاتا تھا۔ اس  پر بھی خوش ہو تا۔

دائیں پیر کی کمزوری کی وجہ سے پھسلنے کا مسئلہ زیادہ ہو تا تھا۔زرا گیلی زمین ہوا یا فرش ہو تو میں آسانی سے پھسل جاتا۔یہ مسئلہ ساری زندگی جاری رہا جس کی وجہ سے کئی مرتبہ پیر کی ہڈی بھی ٹوٹ جاتی۔

۰۷۹۱ء میں والد صاحب کی ملازمت کی وجہ سے ھم ایک بار پھر کراچی چلے گئے اور پھر انن کی وفات تک وہاں رہے۔میں نے مٹرک کا امتحان پاس کرکے کراچی کے بہترین کالج میں داخلہ لیااور پھر انٹرکا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کرکے کراچی کے معروف ڈاؤ میڈیکل کالج میں داخل ہو گیا۔اسی دوران میری ٹانگ کا دوسرا بڑا آپریشن ہوا جو ممتاز آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر رحیم نے کیا۔آپریشن کے بعد مجھے الٹیاں لگ گئی اور بہت تکلیف ہوئی۔میں نے میڈیکل کالج میں داخلے کا انٹرویو بیساکھیوں کی مدد سے چل کر دیا۔

میں اب بڑا ہو چکا تھا اور میرے خیال میں مجھے مزید سرجری کی ضرورت نہیں تھی لیکن والد صاحب کا اصرار تھا. ڈاکٹر رحیم جان درانی کراچی کے مشہورآرتھوپیڈک سرجن تھے اور ان کا تعلق پشاور سے تھا، ان کا کہنا تھا کہ پیر کے عضلات کو مضبوط کرکے سیدھا کیا جا سکتا ہے اور انہوں نے اسی مقصد سے آپریشن کیا جس سے مجھے بہت تکلیف ہوئی. والدین اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہوتے ہیں اور وہ اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں اور خاص طور پر معزور

بچوں سے زیادہ محبت اور شفقت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ان پر بہت خرچ بھی کرتے ہیں. لیکن پولیو بیماری کا مسئلہ یہ ہے کہ جس طرح میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ حملہ آور وایئرس کی وجہ سے مستقل معزوری جنم لیتی ہے جو ساری زندگی ساتھ رہتی ہے کراچی کے قیام کے دوران میرا روحانی علاج بھی جاری رہاکراچی میں جہاں ہم رہتے تھے. پی ای سی ایچ سوسائٹی چیل والی کوٹھی کے قریب وہاں ہمارے گھر کے پاس ایک بنگلہ میں ایک پیر صاحب کا ڈیرہ تھا جو روحانی علاج کرتے تھے. میری والدہ مجھے ہر اتوار ڈرائیور کے ساتھ وہاں بھیج دیتی تھیں. پیر صاحب جوانسال آدمی تھا وہ مجھ سے بات چیت کرتے ہوئے پیر پر ہاتھ پھیر کر دم کرتے اورپانی کی بوتل پر دم کرتے. وہ خود کوئی معاوضہ نہ لیتے تھے لیکن باہر ان کا منیجر بیٹھا ہوتا تھا جس کے پاس ایک چھوٹا سا چندہ کا بکس ہوتاتھا وہ لوگوں کو کہتا تھا کہ اس میں چندہ ڈالو۔

 میرا ایک بڑا مسئلہ جوتے کا ھوتا تھا. میری دائیں ٹانگ چھوٹی اور بائیں ٹانگ بڑی ھے. اس لئے ایک پیر میں 9 نمبر کا جوتا آتا ہے اور دوسری میں 10 نمبر کا. اب اس طرح کا جوتا تو بازار میں نہیں ملتا اس لیے یہ خاص طور پر بنوانا پڑتا ھے. اسکو سرجیکل شوز کہتے ہیں. یہ بآسانی دستیاب نہیں ھوتے. پولیو زدہ دایاں پیر چونکہ تھوڑا ٹیڑھا بھی ہے جس کی وجہ سے کچھ مدت بعد جوتا بھی ٹیڑھا ھو جاتا ہے اس لیے وہ مضبوط بنانا پڑتا ہے اور پہلے اس میں دونوں طرف لوہے کے راڈ لگایے جاتے تھے. سرجیکل شوز بنوانا ایک مشکل اور مہنگا کام ھوتا ھے. جب میں نے اسکول کے زمانے میں مسجد میں باجماعت نماز پڑھنا شروع کی تو ایک اور مشکل سے واسطہ پڑا اور وہ جوتے چوری ھونے کا تھا. میرا ایک اور مسئلہ یہ بھی ھے کہ میں عام چپل پہن کر باہر نہیں پھر سکتا کیونکہ وہ پیر سے نکل جاتا ہے. اس طرح میں پشاوری چپل بھی نہیں پہن سکتا وہ بھی پیر سے اتر جاتا ھے. اب مجبوراً جوتا پہن کر مسجد گیے اور وہاں چوری ھو جاہے تو بہت کوفت بھی ہوتی اور ایک بڑا مسئلہ بھی بن جاتا. میری سمجھ میں نہیں آتا کہ چور کو یہ نظر نہیں آتا کہ یہ سرجیکل شو ھے اور ایک چھوٹا اور ایک بڑا ھے اس کو چوری کرنے کا کیا فائدہ؟

میرے جوتے چوری ہونے کے دو واقعات خاصے دلچسپ ہیں. میں جب ڈاؤ میڈیکل کالج میں پڑھتا تھا تو اس سے متصل سول ہسپتال کراچی کے آرتھوپیڈک شعبہ کے سرجیکل شوذ شعبہ کے انچارج سے دوستی ہوگئی. اس نے بڑی محنت سے میرے لیے ایک شاندار جوتا بنایا جس کو پہن کر میں اگلے دن لاہور چلا گیا جہاں ڈاکٹروں کی تنظیم پیما کی سالانہ کانفرنس تھی. وہاں ہمارا قیام ایک نئے نفسیاتی ہسپتال کی عمارت میں تھا. رات کو میں وارڈ کے بستر پر جوتے اتار کر سو گیا. صبح اٹھا تو جوتے غائب تھے. بہت کوفت ہوئی. ہسپتال انتظامیہ بھی پریشان. انہوں نے بہت کوشش کی لیکن باذیاب نہ ہو سکے. میرے لئے مشکل یہ تھی کہ میں نے آگے پشاور جانا تھا. اب کیا کریں. پھر کراچی گھر فون کرکے پرانے جو تے PIA کارگو سے منگوائے. وہ بھی ڈبے میں پرانے جو تے دیکھ کر حیران ہوگئے وہیں پر جوتے پہن کر میں پشاور روانہ ہو گیا. جاری……

دوسرا واقعہ یوں ہے کہ جب لاہور میں میرے بڑے بھائی رہتے تھے انہوں نے بڑی محبت سے میرے لیے خاص طور پر جامنی رنگ کے جوتے بنوائے. ایک دفعہ ناپ کے لیے میں پشاور سے لاہور گیا اور دو ماہ بعد لینے کے لئے گیا. نیے خوبصورت جوتے پہن کر میں جب واپس پشاور آرہا تھا تو راستے میں اکوڑہ خٹک میں بڑی معروف مسجد میں نماز مغرب کے لیے روکا. نماز پڑھ کر نکلا تو جوتے غائب تھے. بہت غصہ آیا. وہاں کھڑے ہو کر اعلان بھی کیا کہ جو صاحب جوتا لے گئے ہیں اگر واپس کردیں تو انعام دونگا وہ کسی اور کے کام کا نہیں ہے لیکن نہ ملا

 جوتوں کی کہانی لمبی ہورہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر دفعہ نئے جوتے بنوانے کی ایک الگ کہانی ہے۔. میں چونکہ عام چپل استعمال نہیں کر سکتا تھا اس لیے سخت گرمی میں بھی موزے اور جوتے استعمال کرنا پڑتے ہیں. سردیوں میں دایاں پیر خاص طور پر سخت ٹھنڈا اور سن ہو جاتا ہے اور گھر میں بھی چپل پہننا مشکل

ہو جاتا ہے۔کراچی میں تو پھر بھی جوتا بنانا نسبتاً آسان تھا. وہاں لی مارکیٹ میں ایک اسماعیلی کاریگر سرجیکل شوذ بناتا تھا جس کا میں مستقل گاہک تھا لیکن جب ہم 1984 میں والد صاحب کی وفات کے بعد پشاور منتقل ہو گئے تو وہاں کوئی مستقل بندوبست نہ تھا اور ہر دفعہ کسی نئی جگہ پر جانا پڑتا تھا. ایک دفعہ راولپنڈی کے فوجی فاؤنڈیشن ہسپتال سے بھی بنوائے۔. سکندر پورہ میں ایک کاریگر ملا جس نے دو سال جوتے بنائے لیکن پھر اچانک غائب ہو گیا. اس سلسلے میں ایک دلچسپ واقعہ اس طرح ہے کہ ایک بار میں جوتا بنانے کے لیے حیات آباد کارخانو مارکیٹ میں ایک ایسی بلڈنگ گیا جہاں جوتے اور چپل بنانے کی درجنوں دوکانیں ہیں. میں ایک کے بعد دوسری دوکان گیا اور سب سے درخواست کی کہ میرے لیے جوتا بنائیں لیکن وہ تیار نہ ہوئے اور انکار کرتے رہے. پھر میں چھت پر کھڑا ہو گیا اور زور سے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور دکانداروں کو بددعا دی. اس پر ایک قریبی دوکاندار ڈر گیا اور اس نے حامی بھر لی. وہ افغانی تھا اور اگلے سال وہ بھی واپس افغانستان چلا گیا۔

. البتہ میرے سرجیکل شوز بنانے کا مسئلہ 2007 میں امریکہ جا کر حل ہوا. وہ کہتے ہیں کہ سفر وسیلہ ظفر ہے. اتفاق سے امریکہ میں کئے دن ایک ڈاکٹر دوست کے گھر پر گزارے. وہاں ورزش کی مشین trade mill پر روزانہ دوڑتا تھا جس کی وجہ سے میرا جوتا پھٹ گیا اور ایک مشکل بن گئی کہ اب نیا جو تا کیسے بنایا جائے گا. ایک حل یہ تھا کہ ایک جوتا 9 نمبر اور دوسرا 10 نمبر کا لیا جائے لیکن اس کے دوکاندار تیار نہ تھا اور دو جوڑے لینا بہت مہنگا پڑتا. بالآخر دوکاندار نے ہی اس کا حل نکالا اور 10 نمبر کا ایک اچھے برانڈ کا مضبوط جوتا نکال کر دیا جو میرے بائیں پیر میں بالکل فٹ آیا. دائیں طرف جوتے میں جو خالی جگہ تھی اس پلاسٹک کے ایک ٹکڑے سے بھر دیا اور اس میں بھی پیر فٹ ہوگیا. اس طرح میرے جوتے بنوانے کا مسئلہ مستقل طور پر حل ہوگیا. الحمدللہ

پشاور میں رہتے ہوئے ایک اور مشکل یہ پیش آئی کہ شادی غمی کے لئے دیہات جانا ہوتا تھا جہاں کھیتوں کے درمیان پگڈنڈیوں پرچلنا پڑتا تو مجھے ایک پیر کی کمزوری کی وجہ سے توازن برقرار رکھنے میں دشواری کا سامنا ہوتا اور میں گر پڑتا یا کسی دوسرے کا سہارا لیتا. اسی طرح کھیتوں کے درمیان ندی نالے آجاتے تو اس کو پھلانگ کر گزرنا پڑتا جو میرے لیے مشکل ہے یا کسی کو کہنا پڑتا کہ میرا ہاتھ پکڑ کر گذار دے. جب اکیلے ہوتا تو کوشش کے باوجود ندی پار کرنے کی بجائے پانی میں گر جاتا اور کپڑے بھیگ جاتے. ویسے معزوری کی وجہ سے کسی کا سہارا لینا کوئی بری بات نہیں ہے بلکہ لینا چاہیے لیکن اس معاملے میں معذور افراد کی نفسیات کچھ مختلف ہوتی ہیں. وہ چاہتے ہیں کہ عام لوگ ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کریں لیکن جب وہ ایسا کرتے ہیں تو ان کو اچھا نہیں لگتا اور ان اپنی معذوری کا احساس ہوتا ہے. میرا بھی یہ مسئلہ ابھی تک برقرار ہے. ایک اور مسئلہ کیچڑ یا کسی گیلی جگہ پھسلنا ہے. بارش کی صورت میں تو ہلکی سی گیلن میں پھسلنے کا مسئلہ ہوتا ہے. ایک دفعہ میں صبح سویرے جی ٹی ایس کی بس پکڑنے نہا دھو کر نئے کپڑے پہن کر اپنے گاؤں کے گھر سے نکلا اور زرا دور جا کر دھڑام سے ذمین پر جا گرا. باقی تو خیر رہی لیکن سارے کپڑے کیچڑ میں لت پت ہو گئے. جب اس حالت میں گھر واپس آیا تو مورے (اماں) دیکھ کر رونے لگیں۔

سب سے بڑی مشکل جو مجھے پیش آتی ہے وہ ٹھوکر لگ کر گرنا ہے. عام انسان جب چلتا ہے تو اس کے دونوں پیر ایک خاص ذاویہ سے اوپر اٹھتے ہیں اورزمین پر اگر کوئی چھوٹی موٹی چیز پڑی ہو تو وہ اس کو خاطر میں نہیں لاتا. اسی طرح اگر اسکے ایک پیر کو ٹھوکر لگے تو دوسرا پیر اس کو سنبھال لیتا ہے لیکن میرا مسئلہ یہ ہے کہ دائیں پیر کی کلئیر نس کم ہے یعنی وہ پوری طرح اوپر کو نہیں اٹھتا اس لیے وہ بہت معمولی سی چیز سے بھی ٹھوکر کھا جاتی ہے. اور اگر بایاں پیر جو کہ ٹھیک ہے ٹھوکر کھا جائے تو پھر تو لازما گرناہے کیونکہ بایاں پیر اس کو سنبھال نہیں سکتا. اس لیے ٹھوکر لگ گرنا میرا معمول بن چکا ہے. اچھا بھلا چلا جا رہا ہوتا ہوں اور اچانک ٹھوکر کھا کر گر پڑتا ہوں. ساتھی بھی حیران پریشان کہ اس بندے کو کیا ہو گیا ہے. اکثر اوقات تو میں فوراً اٹھ کر کھڑا ہو جاتا لیکن کئی بار گرنے سے چوٹ لگی یا پیر کی کوئی ہڈی ٹوٹ جاتی. ایک دفعہ بڑی عید سے ایک دن پہلے بہت مصروف دن گزرا. قربانی کے لیے ایک سو سے زیادہ جانور خریدے اور پھر تھکا ہارا واپس جماعت کے دفتر آرہا تھا کہ گلی میں ایک ابھری ہوئی اینٹ سے ٹھوکر کھا کر گر پڑا. بعد میں ایکسرے سے پتہ چلا کہ گھٹنے کی ہڈی patella ٹوٹ چکی ہے. پھر ایک ماہ پلستر لگا.

یہی ہڈی ایک بار پھر بھی ٹوٹی. اسی پیر کی چھنگلی کی ہڈی بھی ایک بار ٹوٹی تھی. پولیوزدہ پیر کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس کی ہڈی کمزور ہو تی ہے اور دوبارہ جڑنے میں زیادہ وقت لیتی ہے.

پھسل کر گرنے کا ایک واقعہ تو میں پہلے بیان کر چکا ہوں. دو مزید واقعات بھی قابل ذکر ہیں. ایک بچپن کا اور ایک نسبتاً تاذہ. میں غالباً 8 یا 9 سال کا تھا اورہم گرمیوں کی چھٹیوں میں گاؤں آئے ہوئے تھے. ہمارے حجرے میں ایک چھوٹا سا تالاب تھا جس میں ندی سے پانی آتا تھا اور بچے اس سے پانی ڈول میں بھر کر گھر لے جاتے تھے. ایک دن مجھے بھی شوق چرایا اور میں ڈول لے کر بچوں کے ساتھ پانی بھرنے چلا گیا. جب ڈول بھر کر اٹھا لیا تو پیر پھسل گیا اور میں سیدھا تالاب میں گر گیا. یہ تو اچھا ہوا کہ میری ایک چچا ذاد بہن نے میری ایک ٹانگ پکڑ لی اور شور مچا دیا. ایک رشتہ دار آدمی نے آکر ڈوبنے سے بچا لیا. دوسرا حادثہ اس وقت کا ہے جب میں ایک اجلاس میں شرکت کے لئے لاہور گیا ھوا تھا اور منصورہ کے مہمان خانے میں ٹھہرا ھوا تھا. صبح غسل خانے گیا تھا. کپڑے بدلتے ہوئے جب بایاں پیر اٹھایا تو دائیں پیر پھسل گیا اور میں دھڑام سے فرش پر آگرا اور دائیں ٹانگ کی بڑی ہڈی گھنٹے کے قریب بری طرح سے ٹوٹ گئی. بڑی مشکل سے مجھے نکالا گیا اور ایمبولینس میں ملحقہ منصورہ ہسپتال پہنچا دیا گیا. اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ وہاں ایک قابل آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر اقبال موجود تھے جنہوں نے ایکسرے ٹیبل پر ہی ایک جھٹکے سے میری ٹانگ سیدھی کرکے عارضی پلستر چڑھا دیا وگرنہ بہت شدید درد ہو رہاتھا جو ناقابل برداشت تھا۔

پھر شام کو سرجن صاحب نے آپریشن کیا. تقریباً 2 گھنٹے کی جراحی کے دوران مجھے پورا بیہوش نہیں کیا گیا تھا بلکہ spinal anaesthesia یعنی کمر میں انجکشن لگا کر صرف نچلا دھڑ سن تھا اسلئے میں جاگتا رہا اور گفتگو سنتا رہا. میری ٹانگ کی ہڈی کو جوڑنے کے لیے راڈ لگایا گیا اور اسمیں 6 عدد اسکرو برمے سے لگائی گئیں. مشکل کام تھا. سرجن صاحب نے بتایا کہ چونکہ آپ کی یہ ہڈی کمزور ہے اور کھوکھلی ہے اس لیے اسکو جڑنے میں ذیادہ وقت لگے گا اور ایک سال بعد اس راڈ اور میخوں کو نکالیں گے لیکن پھر بعد میں میں انہوں نے

 سرجن میاں افضل کے ساتھ مشورے سے فیصلہ کیا کہ ان کو نہ نکالا جائے اور وہ اب تک میری ٹانگ میں موجود ہیں.

آپریشن کے بعد میں تین دن منصورہ ہسپتال پیارے بھائی ڈاکٹر میاں محمد افضل کا مہمان رہااور بہت سارے ساتھیوں اور بزرگوں کی محبتیں اور دعائیں سمیٹیں جن میں مرشد سیدی منور حسن صاحب بھی شامل تھے اور پھر پشاور واپسی ہو گئی. پھر 3 سے 4 ماہ تک آرام کرنا پڑا اور آہستہ آہستہ چلنا پھرنا بحال ہوا. لیکن دائیں ٹانگ کی کمزوری میں مزید اضافہ ہوا. پہلے میں سیڑھیاں چڑھتے ہوئے دونوں ٹانگیں استعمال کر لیتا تھا لیکن اب میں چڑھتے وقت صرف بائیں ٹانگ ہی استعمال کر سکتا تھا اور اترتے وقت دائیں ٹانگ کو آگے کرنا پڑتا ہے. اگر اس کے الٹ کروں تو گرنے کا خطرہ ہوتا ہے. اس طرح پہلے میں باتھ روم میں وضو کرتے ہوئے ٹانگیں اٹھا کر واش بیسن میں دھولیتا تھا لیکن اب دائیں پیر کی کمزوری کی وجہ سے بایاں پیر نہیں اٹھا سکتا. اب مجھے ڈرائیونگ میں بھی مشکل ہو نے لگی. چونکہ بریک لگانے کے لئے دایاں پیر استعمال کر نا پڑتا ہے جس میں وہ پہلے والا ذور نہیں رہا اس لیے خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ کہیں ضرورت کے وقت مسئلہ نہ بن جائے. میں ساری عمر ڈرائیونگ کرتا رہا ہوں. کراچی سے پشاور تک اور جانے کہاں کہاں مشکل پہاڑی علاقوں میں. افغانستان کے خطرناک دروں میں. لیکن اب عام سادہ رستوں پر بھی مشکل محسوس ہوتی ہے.۔

. ایم بی بی ایس کرنے کے بعد میں نے سول ہسپتال کراچی میں ھاؤس جاب کیا پھر ڈاؤ میڈیکل کالج میں ایک سال فزیالوجی پڑھائی. پھر پشاور منتقل ھو کر یھاں خیبرہسپتال میں 6 ماہ ممتاذ ماھر اطفال ڈاکٹر اشفاق صاحب کے ساتھ ھاؤس جاب کی. پھر خیبر میڈیکل کالج میں PMRC ریسرچ سینٹر میں میڈیکل آفیسر کے طور پر 2 سال کام کیا اور اس کے بعد بوجوہ سرکاری نوکری چھوڑ کر افغان مہاجرین کی خدمت کے ایک ادارے کے ساتھ منسلک ھو گیا. اس

دوران شام کو نجی پریکٹس بھی کرتا تھا. اس پورے عرصے میں مجھ پر جذباتی کیفیت اس وقت طاری ہوتی تھی جب میں کوئی پولیو ذدہ مریض بچہ دیکھتا تھا. پاکستان میں جب سے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کا نظام بنا ہے اس میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے بھی شامل ہیں. پولیو کا مرض پوری دنیا میں پھیلا ہوا تھا اور اس کے تدارک کیلئے ویکسین 60 کی دہائی میں تیار ھو چکی تھی اور اس کو بچوں کو پیدائش کے بعد چند قطروں کی صورت میں پلایا جاتا ہے جو دیگر بیماریوں کی ویکسین سے بہتر شکل ھے کیونکہ وہ انجکشن کے ذریعے دی جاتی ہیں جو تکلیف دہ ہیں اور ان کا انتظام بھی مشکل ہے. حفاظتی ٹیکوں کے نظام کے نفاذ کے باوجود ایک ذمانے میں پاکستان میں ہر سال 17 سے 20 ھزار بچے پولیو وائرس کا شکار بن کر مستقل معذوری سے دوچار ہو جاتے تھے. اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ نظام محدود تھا اور ہر جگہ یہ سہولت موجود نہیں تھی اور جہاں موجود بھی تھی وہاں والدین اپنی غفلت سے اپنے بچوں کو نہ حفاظتی ٹیکے لگواتے اور نہ پولیو قطرے پلواتے. اس لئے جب پر یکٹس کے دوران میرا ایسے والدین سے واسطہ پڑتا تو میں ان سے پوچھتا کہ آپ نے اپنے بچے کو پولیو قطرے کیوں نہیں پلاے تو وہ آئیں بائیں شائیں کرتے. پھر میں انھیں کہتا کہ یہ تو اب پوری ذندگی معذور رہے گا اور یہ آپ کی اپنی غفلت کی وجہ سے ہو گا. میرا دل چاہتا ہے کہ آپ کو پھانسی کی سزا سنائی جائے لیکن چونکہ یہ ممکن نہیں اس لئے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ آپ کو اس غلطی کی سزا دے. حالانکہ سزا تو انہیں مل رہی ھوتی ہے. ان کا خوبصورت بچہ یا بچی معذوری کا شکار ہو تے ہیں اور وہ ان کے لیے کچھ بھی کرنے سے قاصر ہوتے ہیں.

 جب میں سنہ دو ہزار ایک میں بلدیاتی انتخابات میں ضلع پشاور کا نا ئب ناظم اعلیٰ بنا تو اس وقت ملک میں پولیو مرض کے تدارک کے لئے  پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پلانے کی مہم شروع ہو چکی تھی. یہ مہم اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ صحت کے تحت پوری دنیا میں چلائی جارہی تھی اور اس کا ہدف دنیا میں پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ تھا. پولیو وائرس انسان کے پیٹ میں پرورش پاتا ہے اور پاخانہ کے ذریعے باہر آتا ہے اور پھر پانی، مٹی یا ہوا کے ذریعے دوسرے انسانوں میں پھیلتا. انسانی جسم میں یہ خون کے ذریعہ ریڑھ کی ہڈی میں موجود حرام مغز میں ان خلیات کو خاص طور پر متاثر کرتا جو جسم کے نچلے حصے کے عضلات کو طاقت فراہم کرتے ہیں. اس کی وجہ سے یہ عضلات کمزور ہو جاتے ہیں اور چونکہ متاثرہ فرد بچہ ہوتا ہے تو اس کی نمو بھی سست ہو جاتی ہے. اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کو اپنی بہترین تخلیق قرار دیا ہے اور اس کو بیپناہ صلاحیتوں اور کمالات سے نوازا ہے، لیکن اس کے ساتھ دنیا میں ایسی مخلوقات بھی پیدا کی ہیں جو اس کی جان، صحت اور تندرستی کے لیے خطرناک ہیں. ان میں جہاں بڑے درندے،سانپ اور بچھو ہیں وہاں نظر نہ آنے والی مخلوق جراثیم بھی ہیں.پولیو وائرس بھی ان میں شامل ہے. دنیا میں اب اس وائرس کا خاتمہ ہو سکتا ہے. چین جیسے بڑیملک میں انھوں نے صرف 3 بار تمام بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے اور وہاں ختم ہو گیا. پاکستان میں بھی یہ ممکن ہے. میں نے جس طرح شروع مین عرض کیا کہ جب میں نائب ناظم تھا تو یہ

مہم بڑے ذور و شور سے جاری تھی. میں نے بھی اس میں پوری دلچسپی لی اور پشاور کی سطح پر سو فیصد ہدف کے تعاقب میں اپنا کردار ادا کیا. انھی دنوں اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کا انعقاد ہوا جس کی صدارت وزیراعظم کر رہے تھے. یہ جنرل پرویز مشرف کا دور صدارت تھا. میں بھی اس پروگرام میں شریک تھا. پروگرام کے آخر میں مجھے بھی بولنے کا موقع مل گیا. میں نے کہا کہ جناب جب میں چھوٹا تھا تو میری بڑی خواہش تھی کہ میں بڑا ہو کر فوجی بنوں گا. جب بڑا ہوا تو پتہ چلا کہ چونکہ میری ٹانگ پولیو سے متاثر ہے اس لئے میں فوج کے لئے فٹ نہیں ہوں. اگر ایسا نہ ہوتا تھا تو میں بھی اس وقت جنرل ہوتا اور ہو سکتا ہے کہ جنرل مشرف کی جگہ……… اور پورا ہال قہقہوں سے گونج اٹھا.

 جب سنہ دو ہزار ایک میں، میں پہلی مرتبہ حج پر گیا تو وہاں میرا مدینہ میں قائم ایک ھسپتال جانا ھوا. غالباً نزلہ زکام کی وجہ سے. اس وقت میری 45 سال تھی. ھسپتال میں پرچی پر عمر کے خانوں میں آخری خانہ 65 سَال یا اس سے زیادہ کا تھا. ڈسپنسر نے اس پر ٹک لگا دی. جب ڈاکٹر کے پاس گیا تو اس سے میں نے اپنا تعارف کروا یا. اس نے پرچی دیکھ کر میری عمر پوچھی. میں نے بتائی تو وہ اپنے عملے پر غصہ ہوا کہ اتنی ذیادہ عمر کیسے لکھی. میں نے اس کو تسلی دی کہ ان کا قصور نہیں. میری ٹانگ میں جو کمزوری ہے اس کی وجہ سے چال میں بھی فرق ہے جس وجہ سے لوگ ذیادہ عمر کا سمجھتے ہیں. حج کے گروپ میں بھی اسی طرح کا مسئلہ پیش آیا. ایک حاجی صاحب جو میری بہت عزت کرتے تھے نے اتفاق سے پاسپورٹ پر میری عمر دیکھ لی. اس نے باقاعدہ کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ آپ میں

سے جو ان صاحب کو بزرگ سمجھتا ہے وہ جان کہ یہ مجھ سے عمر میں چھوٹا ہے. یہ مذاق چلتا رہتا تھا اور میں اس پر خوش ہو تا تھا کہ لوگ مجھے بزرگ سمجھتے ہیں. اس وجہ سے بس کے سفر میں مجھے سیٹ مل جاتی تھی یا کھانے کے موقع پر مجھے آگے کر دیتے تھے. ایک موقع پر میرا بڑا بیٹا عمر میرے ساتھ شادی کی تقریب میں شریک تھا تو مجھے آگے کر دیا گیا کہ بابا پوتے کے ساتھ آیا ھے. اس طرح ایئرپورٹ پر ایک بزرگ شہریوں کی الگ لائن ھوتی ہے جس پر 65 سال سے زائد افراد کو جانے کا حق ہوتا ہے لیکن مجھے یہ فائدہ بہت پہلے مل گیا ہیزیادہ عمر کا تذکرہ مجھے تو برا نہیں لگتا تھا لیکن ھمارے گھر کی خواتین کو بہت برا لگتا تھا اور وہ اس پر سخت ناراض ہو جاتی تھیں.

 میں گاؤں کی مسجد کی طرف جا رہا تھا اور میرے پیچھے کچھ بچے مسجد میں قائم مدرسہ میں قرآن پڑھنے آرہے تھے. ایک بزرگ جو راستے میں کھڑے تھے نے اچانک ان بچوں کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا. میں نے ان کو ٹھوکا تو وہ کہنے لگے یہ…….. تمہاری نقل اتار رہے تھے. میں چونکہ اس کا عادی ہو چکا تھا اور کئی بار مڑ کر ان بچوں کو اپنی نقل اتارتے دیکھ کر محظوظ ہوتا تھا اس لیے میں نے برا نہ منایا نہ بچوں کو سخت سست کہا. ھمارے معاشرے میں یہ عام بات ہے. مثلاً کوئی موٹا شخص ہو تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور وہ خود بھی بظاہر اس پر ناراضگی کا اظہار نہیں کرتا. اگر کوئی شخص راستے میں چلتے ہوئے کسی چیز پر پھسل جائے تو اس پر ہنس پڑتے ہیں اور ہمدردی کا اظہار بعد میں کرتے ہیں. پشتو میں لنگڑے کو گڈ کہتے ہیں. اس لئے میں اپنے بارے میں گڈ ماما یا گڈ بابا کے الفاظ سن چکا ہوں..

قرآن پاک میں سورہ الحجرات میں جہاں کئی معاشرتی اصول اور انسانی حقوق بیان کئے گئے ہیں وہاں دوسروں کا مذاق اڑانے سے خاص طور پر منع کیا گیا ہے لیکن ھم عام طور پر اس پر عمل نہیں کرتے جس سے جسمانی طور پر معذور افراد کی دلآزاری بھی ہوتی ہے اور بعض اوقات لڑائی جھگڑے کی نوبت بھی آجاتی ہے.

انسان کی عمر جس طرح بڑھتی جاتی ہے اس طرح اس کے جسمانی مسائل، کمزوری اور بیماریوں میں بھی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے. خاص طور پر 60 سال کی عمر کو آپ ایک نشان راہ landmark سمجھ لیں جس کو عبور کر کیآپ ایک نئے دور کا آغاز کرتے ہیں. انگریزوں نے سرکاری ملازمین کے لئے نوکری سے فراغت کے لیے عمر کی یہ حد سوچ سمجھ کر مقرر کی تھی. میں بھی اس عمر تک اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے معزوری کے علاوہ ٹھیک ٹھاک رہا. کوئی دوائی نہیں کھائی. کء سال پہلے میں امریکہ گیا تھا. وہاں جس مہربان دوست کے پاس ٹھہرا تھا، رات کو سونے سے پہلے اس نے دریافت کیا کہ اگر آپ کو کسی دوا کی ضرورت ہو تو بتائیں میں بندوبست کر لوں گا تو میں نے کہا کہ میں تو کوئی دوا نہیں کھاتا. وہ بڑا حیران ہوا اور جا کر زیابیطس جانچنے اور بلند فشار خون دیکھنے کے آلات لے آیا. پہلے اس نے میرے خون میں چینی کی مقدار دیکھی اور فشار خون چیک کیا. دونوں ٹھیک نکلے. بہر کیف وہ خوش ہو ا اور مجھے مبارکباد دی اور اپنے بارے میں بتایا کہ وہ 6 قسم کی ادویات استعمال کرتے ہیں. لیکن جب میں نے 60 کا ہندسہ کراس کیا تو مجھے جوڑوں کا درد شروع ہو گیا خاص طور پر بائیں گھٹنے میں. پھر 62 سال کی عمر میں ذیابیطس کا آغاز ہوا جو ھمارا خاندانی مرض ہے. جس طرح میں پہلے بتا چکا ہوں کہ میری دائیں ٹانگ پولیو سے متاثر ہے جبکہ بائیں ٹانگ زیادہ طاقتور اور موٹی ہے. اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جسم کا ذیادہ بوجھ اٹھاتی ہے. میرا قد 6 فٹ اور وزن 110 کلوگرام (اب کم ہو کر 94 کلوگرام) تھا. اس لئے سمجھ لیں کہ بائیں ٹانگ نے 60 سال تک دائیں طرف کا وزن بھی اٹھایا اس طرح اس کی عمر 120 سال ہو گء. چنانچہ اس نے جواب دیدیا. مطلب یہ کہ دونوں ٹانگیں بیکار ہو گئیں اور میں جس چیز سے ڈرتا تھا اور آپ بھی اس کو دیکھ کر ڈرتے ہو نگے، اس کا استعمال شروع کر دیا. یعنی لاٹھی کا. جوانی میں بزرگوں کو لاٹھی ٹیکتے ہوئے دیکھا کرتے تھے تو یہ گمان بھی نہیں کر سکتے تھے کہ ایک دن خود بھی یہ کام کرنا پڑے گا. لیکن اب مجبوری بن گئی. گھٹنے کے درد کی وجہ سے ایک اور ناگوار کیفیت سے بھی دوچار ہوا. نماز میں سجدہ کرنا ہر مسلمان کا ایک محبوب عمل ہوتا ہے اور اس سے زندگی میں محروم ہو نا تکلیف دہ ہے. لیکن اب ھماری مساجد میں کرسیوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے. جس کی بڑی وجہ جوڑوں کا درد ہے. میں ایک عرصے تک درد کے باوجود اس عمل سے اپنے آپ کو بچاتا رہا. بھلا وہ بھی کیا نماز ہو گی جس میں سجدہ نہ ھو گا. التحیات پڑھتے وقت کرسی پر بیٹھ جاتا لیکن سجدہ نہ چھوڑا. لیکن بالآخر ایک دن مسجد میں مغرب کی نماز پڑھ رہا تھا اور سجدے میں گیا تو پھر اٹھنا مشکل ہو گیا. گھنٹے میں صرف درد نہیں ہوتا بلکہ وہ بیدم بھی ہوجاتا ہے اور کھڑے کھڑے گرنے کا خطرہ ہوتا ہے.

اس سرگزشت کو لکھنے کا مقصد اپنی آپ بیتی لکھنا نہیں تھا. اس کا اصل مقصد پولیو سے متاثرہ ایک عام فرد کے مسائل کو اجاگر کرنا ہے. پاکستان میں ایک بڑی تعداد میں لوگ کسی نہ کسی معذوری کا شکار ہیں. ان میں پیدائشی معذوری سے لے کر حادثاتی طور پر معذور ہونے والے افراد بھی شامل ہیں. بچے، جوان، بوڑھے سینکڑوں قسم کی معذوریوں سے دوچار ہیں. لیکن اس میں سے کئی قسم کی معذوری ایسی ہیں جس سے بچا جا سکتا ہے ان میں پولیو بھی شامل ہے. وائرس کی وجہ سے اس بیماری سے بچاؤ کے لیے ویکسین قطروں کی صورت میں موجود ہے. عالمی سطح پر گزشتہ 20 سال سے چھوٹے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی خصوصی مہمات چلائیں جا رہی ہیں جس کے نتیجے میں دنیا کے بیشتر ممالک میں یہ وائرس ختم ہو چکا ہے. اب صرف پاکستان اور افغانستان میں رہ گیا ہے. پاکستان میں بھی یہ 70% اضلاع میں نہیں رہا. پہلے سال میں ہزاروں بچے اس سے متاثر ہوتے تھے اب ایک سو سے دو سو کی تعداد اس کا شکار بنتی ہے. پاکستان میں اس وائرس کی موجودگی دنیا کے لئے بھی ایک خطرہ ہے کہ دوبارہ اس کا پھیلاؤ شروع ہو جائے. پچھلے سال چین میں اس وائرس کی موجودگی پائی گئی تھی جس کی جینیاتی ہئیت پاکستانی قسم کی تھی. اس مسئلے کی وجہ سے عالمی ادارہ صحت نے پاکستان پر پابندیاں بھی عائد کر رکھی ہیں. لیکن ذاتی طور پر میری فکر کا محور وہ بچے ہیں جو اب بھی اس کا شکار بن جاتے ہیں. چونکہ میں خود ساری زندگی اس سے متاثر رہا ہوں اس لیے میرا احساس دوسروں سے شدید تر ہے. میری خواہش ہے کہ پاکستان میں کم از کم یہ ایک مرض ختم ہو جائے اور یہ ممکن ہے. شرط یہ ہے کہ جب بھی پولیو کے قطرے پلانے کی مہم چلے تو 5 سال کم عمر تمام بچوں کو یہ پلا دئیے جائیں. اگر 2 یا 3 دفعہ ایسا ہو گیا تو یہ کام ہو جائے گا لیکن عملاً یہ نہیں ہو پا رہا. ہمارے ملک میں بہت سارے سماجی معاشرتی اور انتظامی مسائل ہیں نظم و ضبط مسئلہ ہے. قانون پر عملدرآمد نہیں ہوتا. پوری دنیا میں غالباً یہ واحد ملک ہے جہاں موٹر سائیکل سوار سر پر ہلمٹ نہیں پہنتا. سواری سیٹ بیلٹ نہیں لگاتی. پھر مسئلہ اعتماد کا بھی ہے. ہر بات کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے. پولیو قطرے پلانے والے افراد کو ہدف بنا کر مارا بھی جاتا ہے. عوامی شعور کی بیداری مسئلہ کا ایک حل ہے جس کے لیے میں نے ایک کاوش کی ہے. اس تحریر کا مقصد معاشرے میں موجود نیکی کے جذبے کو ابھارنا  ہے. انسانی ہمدردی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک بڑی صفت ہے. کئی دوستوں کی خواہش تھی کہ میں اپنی کمزوریوں کا تذکرہ کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کا بھی ذکر کروں جو اس نے مجھے اس معذوری کے ساتھ عطا کی ہیں. یقیناً مجھ سمیت ہر معذور فرد کو اللہ تعالیٰ بے شمار صلاحیتوں سے نوازتا ہے جس کی وجہ سے وہ دنیا میں ایک بھر پور کردار ادا کرتا ہے اور اس کی بیشمار مثالیں موجود ہیں. ذاتی طور میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں کہ اس کے میرے اوپر بے پناہ احسانات ہیں جس کا احاطہ الفاظ میں ممکن نہیں ہے. لیکن جس طرح میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ اس سرگزشت لکھنے کا مقصد پولیو سے متاثرہ ایک بچے کا بچپن سے بڑھاپے تک کے ان مسائل اور مشکلات کا ذکر کرنا ہے جو بالعموم ہماری نظر سے اوجھل رہتے ہیں. اس کے نتیجے میں عوامی رائے عامہ کو اس کام کے لیے منظم کرنا ہے کہ 100% کوریج کا حصول ممکن بنایا جا سکے. میری حقیر سی کوشش شائد ایسے بڑے ہدف کے حصول کیلئے ناکافی ہو لیکن ایک آغاز ضرور بن سکتی ہے. اس لئے میری سماجی رابطے کے قارئین سے گذارش ہے کہ وہ اس تحریک کو آگے بڑھائیں. یہ مکمل کہانی بھی اب آپ کے مطالعہ کے لئے مہیا ہو جائے گی جس کو استعمال کیا جا سکتا ہے. میری طرح دیگر افراد بھی اپنے تجربات لکھ سکتے ہیں. سماجی رابطے کے علاوہ ابلاغ کے دوسرے ذرائع بھی استعمال کئے جا سکتے ہیں. انشاء اللہ میں اپنے طور پر اس سلسلے کو جاری رکھوں گا. اللہ تبارک و تعالیٰ ھمارے بچوں کی حفاظت فرمائے اور ھماری قوم کو نیکی کی ھدایت کرے. آمین. وماعلینا الاالبلاغ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *