دنیا کو عمومی طور پر اور پاکستان کو خصوصی پر بےشمار مسا ئل کا سامنا ہے ۔ تاہم ہمارے لئے سب سے اہم اور بنیادی معاملہ معاشی معاشرتی اورمذہبی تمام حوالوں سے سے ایک ہی ہے۔ ہمارے ملک میں آبادی کا تقریباّ 40 ٪ حصہ، 7 سے 8 کروڑ لوگ ،انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ ان لوگوں کو اور ان کے بچوں کو اپنی اس خراب اور انتہائی مشکل حالت کو بہتر بنانے کا کوئی موقع حاصل نہیں ہے۔ جب تک یہ لوگ معاشی سرگرمی میں حصہ نہیں لے پاتے، پاکستان دیرپا ترقی نہیں کرسکتا اور اس صورتحال میں ہم ایک اچھے اور صحت مند معاشرے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ کیا ایسے گھرانے کو آپ اچھا کہہ سکتے ہیں جہاں دو بھائی اور انکے بیوی بچے تو مزے کر رہے ہوں اور تیسرے بھائی کےبچے کھانے کو ترس رہے ہوں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق مسلمان ایک خاندان بلکہ ایک جسم کی طرح ہیں، ہم چھوٹے چھوٹے اور غیر اہم معاملات پہ لاحاصل ڈسکشن کر رہے ہوتے ہیں جبکہ ان کی اس حالت کو بہتر بنانا ہم پر دینی اور اخلاقی نقطہ نظر سے سب سے اہم فرض ہے اور ہم ان لوگوں کے لیے اللہ تعالی کے سامنے جواب دہ ہیں
اس اہم اوربنیادی مسئلے کا حل الللہ نے ایک بہترین سوشل اورزبردست اکنامک نظام کی صورت میں دیا ہے، ایک جامع اور شفاف انداز میں ریاستی سطح پر زکاۃ کا نفاذ جس کے نتیجے میں ریاست کو دولت مند لوگوں سے ان کی دولت کا ایک طے شدہ حصہ لازمی طور پر لینا ہے اور غریب اور نادار لوگوں کی بنیادی ضروریات کو پوراکرنا ہے اوراسطرح ریاست کو اپنے تمام لوگوں کی بنیادی ضروریات کی ذمہ داری اٹھانی ہے۔
معاشرے کے غریب اور نادار طبقے کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا، جدید معاشیات میں ایک ملک کی اشیا اور خدمات کی مجموعی طلب یا جی ڈی پی کو بڑھانے کے لئے ضروری سمجھا جاتا ہے ۔ کورونا کے دوران دنیا میں مختلف حکومتوں اورسماجی تحفظ کی اسکیموں کے تحت غریب لوگوں کو نقد رقم کی منتقلی اور دیگر عطیات دیئےجارہے ہیں۔ یہ عطیات نہ صرف غریبوں کی زندگی کے لئے انتہائی اہم ہیں بلکہ معیشت دان اس پر متفق ہیں کہ یہ عطیات معیشت کو محفوظ رکھنے کے لئے بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ زکاۃ کا نظام قائم کر کے پاکستان کی جی ڈی پی میں نمایاں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
کہف ایک مشہور عالمی معاشی ماہر کے تخمینے کے مطابق پاکستان میں زکوۃ کا پوٹینشل جی ڈی پی کے 4.4 ٪تک ہےجو 2500 ارب روپے سے زیادہ ہو گا- اس رقم سے ہرغریب خاندان کے لئے سالانہ دو لاکھ روپے سسے زیادہ رقم مختص کی جا سکتی ہی جوان کی زندگیوں میں انقلاب پیدا کر سکتی ہے۔
خدا کی طرف سے زکاۃ پر عمل درآمد صرف افراد کی انفرادی ذمہ داری نہیں ہے اور نہ ہی اس کی تکمیل دولت مندد لوگوں کے اپنےذاتی احسان پر منحصر ہے، بلکہ۔ زکاۃ ایک معاشرتی بہبود کا لازمی ادارہ ہے جس کی نگرانی ریاست کرتی ہے ۔ زکاۃ تقسیم کرنے میں ریاست کے کردار کی اس آیت میں تائید کی گئی ہے جس میں “زکاۃ کا انتظام کرنے والوں کا ذ کر ان آٹھ اقسام میں کیا گیا ہے جن میں زکاۃ تقسیم ہونی ہے۔ یہ آیت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ زکاۃ وصول کرنے کے لیے ریاست کی طرف سے لوگ مقرر ہونےچاہیے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے خود ہی اس مسئلے کو حل کیا ہے۔ “وہ لوگ انہیں اگر ہم زمین میں اقتدار دیتے ہیں تو وہ نماز کا قیام کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں “(22:41) ۔ اسلامی قانونی نظام کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ زکوۃٰ جمع کرنا اور استعمال کرنا ہمیشہ ہی ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک سمجھا جاتا رہا تھا۔ حضرت ابو بکر صدیق (رضی اللہ تعالٰی عنہ) اپنے خلافت کے آغاز پر ان لوگوں کے خلاف اپنے اعلان جہاد کے لئے مشہور ہیں جنہوں نے ریاست کو نبی کریم (ص) کے انتقال کے بعد زکوۃ دینے سے انکار کیا تھا۔ ابوبکر (رض) نے کہا۔ “اگر وہ اونٹ کی ایک لگام یا بھیڑ کا بچہ بھی (جوان پر واجبالادا ہے) دینے سے انکار کریں گے اللہ کی قسم میں اس کے لئے ان لوگوں کا مقابلہ کروں گا ۔ جو بھی نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا میں اس سے جہاد کروں گا کییوں کہ زکوۃ بندوں پہ اللہ کا مالی حق ہے “
اسلام نہ صرف لوگوں کے دلوں میں زکاۃ ادا کرنے کی خواہش کو بیدار کرتا ہے بلکہ ریاست کو لازمی طور پہ زکاۃ جمع اور تقسیم کی ذمہ داری اور حکم دیتا ہے ۔ اسکی کئی اہم وجوہات ہیں، او ل ، کچھ افراد کے پاس روشن ضمیر اور شعور نہیں ہوتا جو انہیں اس ذمہ داری کو پورا کرنے پر مجبور کرے ۔ ایسے معامالت میں اگر زکاۃ کی ادائیگی ان افراد پر چھوڑ دی جائے تو غریبوں کا حق مارا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں جمع ہونے والی زکاۃ اسکے ٹوٹل پوٹینشل کا 10 فیصد بھی نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ جب غریب افراد اپنا حق بجائے امیروں سے لینے کے حکومت سے وصول کرتے ہیں تو ان کی عزت اور وقار محفوظ رہتا ہے۔ تیسرا یہ کہ اگر زکاۃ افراد پر چھوڑ دی جائے تو یہ بےربط اور ناکافی ہو گی، کیونکہ ہر فرد ہمیشہ تقسیم اپنی ذاتی ترجیحات کے مطابق کرے گا اور اس صورت میں زیادہ ضرورت مند لوگ محروم رہ سکتے ہیں۔جبکہ ریاست کو اپنے تمام شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنی ہیں۔ زکاۃ درحقیقت انسانی تاریخ میں نافذ کیا گیا سوشل سکیورٹی کا پہلا نظام ہے ، ایسا نظام جس کا انحصار انفرادی رضاکارانہ خیرات پر نہیں ہوتا ہے بلکہ ایک ایسے سرکاری ادارے پر ہے جو باقاعدگی سے ایک طے شدہ حصہ ، معاشرے کے با ثروت لوگوں سے لازمی طور پر وصول کرتا ہے اور ضرورت مندوں کو منظم امداد تقسیم کرتا ہے ۔
زکاۃ کی وصولی کیلیے اسکی انتظامیہ اور تقسیم میں زیادہ شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانا ہوگا۔ اگر عطیہ دہندگان جانتے ہوں کہ ان کی دی گئ رقم کو موثر طریقے سے استعمال کیا جائے گا تو اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ وہ اس نظام میں خوشی سے حصہ لیں۔ شفاف پالیسیاں زکاۃ کےادارے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کریں گیں ۔ پاکستان میں ویلتھ ٹیکس ریٹرن جمع کروانا ضروری ہے۔ ذاتی استعمال کے علاوہ اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو پر زکاۃ کا اطلاق کیا جا سکتا ہے۔ اسطرح پہلے سے موجود نظام کے ذریعہ زکوۃ جمع کی جا سکتی ہے اور اس میں کوئی اضافی لاگت نہیں آئے گی
زکاۃ غریبوں کی تعلیم اوراستعداد بڑھانے پربھی خرچ کرنا چاہئے تاکہ لوگوں کو غربت کے جال سے مستقل طور پر نکالا جا سکے ۔ زکوٰۃ کا ایک خاص حصہ ملازمت کی گارنٹی پر خرچ کرنا چاہئے، بےروزگارلوگوں کے ذریعہ مفید کام بھی کراۓ جاسکتے ہیں۔ ایک طرف ہمارے ملک میں لاکھوں لوگ بے روزگار ہیں اور دوسری طرف انفراسٹرکچر کی تعمیر سے لے کر درختوں کے لگانے تک متعدد کام، کرنے کے ہیں ۔ آخر ہمارا مالیاتی نظام معاشرے کے اندر ان کاموں کو انجام دینے کے لئے بے روزگار ورک فورس کو استعمال کرنے کے قابل کیوں نہیں ہے؟ اس قدم سے جی ڈی پی خاصا اضافہ ہوسکتا ہے۔ معروف فلاحی اداروں کے اچھے کاموں کی حوصلہ افزائی کے لیے لوگوں کو اجازت دی جانی چاہیے کہ وہ اپنی زکاۃ کچھ حصہ ان کو دینے کے لیے سفارش کر سکیں۔ یہ طریقہ کار ان اداروں کی مالی اعانت میں اضافہ کرے گا۔
زکاۃ کا ایک بڑا فنڈ جو کروڑوں غریب لوگوں کو بنیادی ضروریات کی فراہمی اور تعلیم و تربیت کے ذریعہ ان میں کمانے اور زندگی بہتر گزارنے کی اہلیت پیدا کر رہا ہو، اس میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سمیت دوسرے امیر لوگوں سے بھی بڑی مقدار میں زکاۃ حاصل کرنے کی. صلاحیت ہوگی
ریاست مدینہ یا اسلامی نظام کیا ہے؟ سواے انصاف، نماز اور زکاۃ کا نظام کے، زکاۃ کا نظام ایک بہترین معاشی انصاف ہے جس کا قرآن میں باربار حکم دیا گیا ہے ۔ زکاۃ کا نظام لوگوں کی زندگی کو بہ حیثیت مجموعی بہتر بنا سکتا ہے اور پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی شاہراہ پہ گامزن کر سکتا ہے اس لیے جہاں بھی ممکن ہو ہمیں اس کے نفاذ کا مطالبہ کرنا چاہئے تاکہ آخر کار یہ ایک زبردست عوامی مطالبہ بن جائے اور جلد اس کا نفاذ ممکن ہو ۔